7 نومبر 2024 - 15:35
ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے پر حماس کا موقف سامنے آگیا

فلسطین کی حرکۃ المقاومۃ الاسلامیہ حماس، نے اعلان کیا کہ نئی امریکی انتظامیہ کے حوالے سے ان کا موقف مسئلۂ فلسطین، فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور ان کے منصفانہ اہداف و مقاصد کے سلسلے میں اس کے عملی کردار پر منحصر ہوگا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، فلسطین کی حرکۃ المقاومۃ الاسلامیہ حماس نے امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج آنے اور ٹرمپ کی کامیابی کے بعد [بدھ 6 نومبر کو] ایک بیان جاری کیا اور کہا: نئی امریکی انتظامیہ کو جان لینا چاہئے کہ فلسطینی عوام نفرت قبضہ گری کا مقابلہ جاری رکھیں گے اور ایسا کوئی بھی حل قبول نہیں کریں گے جو ان کے ـ آزادی اور خودمختاری کے جائز حق، حق خود ارادیت اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام ـ جس کا دارالحکومت قدس شریف ہوگا ـ پر مبنی مطالبے کے خلاف ہوگا۔

اس بیان میں یاددہانی کرائی گئی ہے کہ واشنگٹن کی سابقہ حکومت نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے منفی موقف اپنا رکھا ہے۔

حماس کے بیان میں کہا گیا ہے: امریکہ نے جدید تاریخ کے المناک ترین نسل کشی کی جنگ میں جنگی مجرموں کی سیاسی اور فوجی حمایت کی ہے، چنانچہ امریکہ کو صہیونی ریاست کی نسبت اندھے تعصب پر رویہ ترک کرنا چاہئے اور غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں نسل کشیکی جنگ اور فلسطینی اور لبنانی عوام کا قتل عام بند کرنے کے لئے عملی اور سنجیدہ کوشش کرنا چاہئے، اور امریکہ کے نئے صدر کو جنگ غزہ پر احتجاج کرنے والے امریکی معاشرے کا مطالبہ سننا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔

110